تعارف
نام: حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ.
والد: حضرت سید شاہ حبیب شاہ رحمتہ اللہ علیہ.
ذاتِ گرامی: سید (کاظمی).
پیدائش: 1102 ہجری، 6 صفر بروز جمعہ، 18 نومبر 1689 عیسوی، بھئیں پور.
آپ کے بھائی : عبدالطیف رحمتہ اللہ علیہ، عبدالرشید رحمتہ اللہ علیہ.
زوجہ محترمہ کا نام: بیبی سلطانہ مغل.
اولاد: ایک بیٹا جو پیداہوتے ہی انتقال کر گیا.
وفات: 1165 ہجری ، بھٹ شاہ.
عمر: 63 برس.
القابات: شاہ سائیں، شاہ صاحب، شاہ، بھٹائی گھوٹ، بھٹ دھنی، شاعروں کا سرتاج، عالمی شاعر، خیرالعالمین وغیرہ.
صوفی طریقہ: قادری (اویسی) ، لطیفی احد کا ذکر.
اثرات: حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،حضرت علی کرم اللہ وجہ، حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت شمس الدین تبریزی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت شاہ عبدالکریم بُلڑی والے، حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت منصور حلاج رحمتہ اللہ علیہ، حضرت خواجہ فریدالدین عطار رحمتہ اللہ علیہ اور کبیر بھگت وغیرہ۔
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کا اثر:حضرت سچل سرمست رحمتہ اللہ علیہ، بیدل بیکس اورآپ کے بعد شاعری کرنے والے دیگر سندھی شعرا ۔
شاعری کے مجموعہ کا نام: حضرت سید شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کا رسالہ (شاہ جو رسالو) .
موسیقی:حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کا راگ (شاہ کا راگ).
ایجاد: روحانی موسیقی کا ساز ''دنبورہ'' احدیت کا ذکر.
حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ مبارک
1. حضرامام علی علیہ السلام
2. حضرامام حسین علیہ السلام
3. حضرامام زین العابدین علیہ السلام
4. حضرامام محمد باقر علیہ السلام
5. حضرامام جعفر صادق علیہ السلام
6. حضرامام موسیٰ کاظم علیہ السلام
7. حضرت سید جعفر ثانی الحواری العراقی رحمتہ اللہ علیہ
8. حضرت علی حسین العکبری السبزواری رحمتہ اللہ علیہ
9. حضرت سیدالحواری الشیرازی رحمتہ اللہ علیہ
10. حضرت سیدابراہیم یوسف السبزواری رحمتہ اللہ علیہ
11. حضرت سید محمد حسین السبزواری رحمتہ اللہ علیہ
12. حضرت سید احمد یوسف السبزواری رحمتہ اللہ علیہ
13. حضرت سید میر علی ترمذی رحمتہ اللہ علیہ
14. حضرت سید حسین ترمذی رحمتہ اللہ علیہ
15. حضرت سید محمد شیرازی/ترمذی رحمتہ اللہ علیہ
16. حضرت سیدمیر علی حراتی رحمتہ اللہ علیہ
17. حضرت سید میر حیدر شاہ حراتی رحمتہ اللہ علیہ
18. حضرت سید میر علی سندھی رحمتہ اللہ علیہ
19. حضرت سید شرف الدین رحمتہ اللہ علیہ
20. حضرت سید جلال عرف جراڑ (جرار) رحمتہ اللہ علیہ
21. حضرت سید حاجی رحمتہ اللہ علیہ
22. حضرت سید ہاشم رحمتہ اللہ علیہ
23. حضرت سید عبدالمومن رحمتہ اللہ علیہ عبدالمنان
24. حضرت سید لعل محمد رحمتہ اللہ علیہ
25. حضرت سید عبدالکریم بُلڑی والے رحمتہ اللہ علیہ
26. حضرت سیدجلال شاہ رحمتہ اللہ علیہ
27. حضرت سید عبدالقدوس شاہ رحمتہ اللہ علیہ
28. حضرت سید حبیب شاہ رحمتہ اللہ علیہ
29. حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ
شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت
شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے عقیدتمند انہیں ''شاہ بھٹائی''، ''بھٹائی گھوٹ''، ''بھٹائی بادشاہ'' یا پھر ''بھٹ دھنی'' وغیرہ کے ناموں سےیادکرتے ہیں۔ سن 1102 ہجری، 1689 عیسوی میں ضلع حیدرآباد کے تعلقہ ہالا میں کھٹیانوں کے گاؤں کے قریب ''بھئیں پور'' میں پیدا ہوئے۔ اس مقام پر غلام شاہ کلہوڑو نے ایک مسجد تعمیر کروائی۔ جو آج بھی موجود ہے۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کا خاندانی پس منظر
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کا خاندان سرکارِ دوعالم حضرت محمد مُصطفیٰ احمدِ مُجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتا ہے ، آپ کے آباواجداد ہرات میں رہا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک جن کا نام سید میر علی تھا ، سن 1398 عیسوی میں جب امیر تیمور 262312 لشکرلے کر ہرات پر حملہ آور ہواتھا تو سید میر علی شاہ جاکر سلطان سے ملے اور ان کے لشکر کی میزبانی کے لیے 262312 نذر کے طور پر پیش کئے، یعنی فی آسامی ایک روپیہ کے حساب سے رقم ادا کی۔سلطان کو سید میر علی شاہ کے اس عمل سے بہت خوشی ہوئی اورسلطان سید میرعلی کے ساتھ بڑے اچھے طریقے سے پیش آئے اور ان کے بیٹوں کو بڑے بڑے عہدے پیش کئےاور مختلف صوبہ جات میں حاکم مقررکیا۔ سید میر علی کے کل چھ بیٹے تھے: 1- میر عبدالباقی کو اجمیر کا حاکم مقر کیا۔ 2- میر عبدالواحد شاہ کو ملتان کا حاکم مقرر کیا۔ 3- میر عبدالرزاق شاہ کو سکھر اور بکھر کا حاکم مقرر کیا۔4- میر ابوبکر شاہ کو سیوستان (سیوہن) کا حاکم مقرر کیا۔5- میر شرف الدین نے کوئی عہدہ نہ لیا۔6- میر حیدر شاہ اپنے والد کی خدمت میں رہتے تھے ، تاہم ایک مرتبہ اپنے والد اور سلطان کی اجازت سے اپنے بھائیوں سے ملاقات کے لیے سندھ تشریف لائے ۔ یہاں آپ ہالہ شہر میں شاہ محمد کے فرزند دریاہ خان ہالی کے ہاں مہمان کی حیثیت میں مقیم ہوئے۔ اس زمانے میں وہاں کا حاکم میران محمد تھا اور کسی سبب سے جس جگہ میر حیدرشاہ مقیم تھے وہاں کے لوگوں پر پانچ سو روپے کا جرمانہ رکھا گیا۔ ان لوگوں کے وسائل محدود تھے لہٰذا سید حیدر شاہ نے شام محمد کو پانچ سو روپے دیئے تاکہ وہ اس پریشانی سے نجات حاصل کرپائیں۔ اس کے بعد سے شاہ محمدہمیشہ سید حیدر شاہ کے زیرِ بار رہے ۔ سید صاحب اعلیٰ نسب سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر شخصیت تھے ، لہٰذا شاہ محمد صاحب کی صاحبزادی کا نکاح آپ سے کردیا گیا۔ آپ کی زوجہ محترمہ کا نام ''فاطمہ'' تھا۔ سید میر حیدرشاہ کی والدہ ماجدہ کا نام بھی چونکہ ''فاطمہ'' تھا ، لہٰذا آپ نے اپنی زوجہ محترمہ کا نام شادی کے بعد تبدیل کر کے ''بی بی سلطان'' رکھ دیا۔ اس طرح سیدحیدرشاہ ایک سال پانچ ماہ تک ہالہ میں مقیم رہے اور وہیں آپ کو اپنے والد صاحب کے انتقال کی خبر ملی ۔ اس کے بعد وہ جلد ہی ہرات کی جانب روانہ ہوئے، آپ کی زوجہ محترمہ چونکہ اُمید سے (حاملہ) تھیں ، لہٰذا ان کو اپنے میکے میں ہی چھوڑا، اور بطورِ نشان تین چیزیں ان کے ہاں چھوڑ گئے: ایک انگوٹھی، ایک جڑاؤ خنجر اور ایک باندی جو وہ اپنے ساتھ ہرات سے لائے تھے۔ آپ یہ حکم دے کر گئے تھے کہ اگر بیٹا پیدا ہو تو اس کا نام ان کے والدکے نام کی نسبت سے میر علی رکھا جائے۔جب وہ بڑا ہوجائے تو یہ تینوں تحائف اس کو پہنچا دیئے جائیں۔ اور اگر بیٹی پیدا ہوتو اس کا نام ان کی والدہ کے نام کی نسبت سے فاطمہ رکھا جائے۔ سید حیدر شاہ وہیں ہرات سے اپنے اہلیہ اور اس کے والدین سے خط و کتابت کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے تھے ۔ جب آپ کو ہرات میں رہتے ہوئے تین برس اور ستائیس دن گزرے تو آپ نے واپس سندھ آنے کا ارادہ کیا ۔ تاہم پھر سید حیدر شاہ اچانک بیمار پڑ گئے اور اسی بیماری میں آپ کا انتقال ہوگیا۔ وہیں ہرات میں آپ کی دوسری بیوی سے آپ کے دو بیٹے تھے: ایک کا نام سید محمد اور دوسرے کا نام سید حسین تھا، انہی دو بیٹوں کو ان کے والد کی تمام دولت ورثے میں ملی۔ سید حیدر شاہ کی ہرات روانگی کے بعد بیبی سلطان کے ہاں چوتھے ماہ ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام میر علی رکھا گیا۔ جب یہ لڑکا کچھ بڑا ہوا تو والد کی وصیت کے مطابق انگوٹھی ، خنجر اور ہرات سے آنے والی دایہ اس کے حوالے کر دی گئیں۔ کچھ عرصہ بعد اسی دایہ کے مشورہ سے سید میر علی ہرات تشریف لاکر اپنے رشتہ داروں کا بطور مہمان رہنے لگے۔ جب انہوں نے اپنے والد کی دولت میں سے اپنا حصہ طلب کیا تو سب نے ان کو گھیر لیا کہ اپنے اصل نسل ہونے کا ثبوت پیش کریں کہ ان کا حق کس طرح تسلیم کیا جائے؟ انہوں نے اپنے والد کے ہاتھ کی انگوٹھی اور خنجر دکھائے اور دایہ کو بھی بطور گواہ پیش کیا۔بل آخر یہ معاملہ قاضی تک پہنچا جس کے فیصلے کی بنیاد پر ایک تہائی سے کچھ کم مال سید میر علی کے حصے میں آیا۔ انہوں نے زیادہ وقت وہاں قیام نہیں کیا اور جلدہی واپس سندھ تشریف لے آئے۔ اس کے بعد جلد ہی میر علی شاہ نے شادی کی جس سےانہیں دو فرزند ہوئے۔ ان میں سے ایک سید شرف الدین وہیں ہالہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے ، جبکہ دوسرے بیٹے سید احمد نے ایک تُرک بیبی کے بطن سے جنم لیا۔ سید شرف الدین شادی کے بعد اپنے والد سے علیحدہ رہنے لگے جبکہ سید احمد اپنے والد کے ساتھ ہی رہے۔ ان میں سے ایک کی اولاد کو آج بھی ''شرف پوٹا'' اور دوسرے کی اولاد کو ''میرن پوٹا'' کہا جاتا ہے جو ''متعلوی'' شہر میں رہتے ہیں۔ متعلوی کو سندھی میں ''مٹاری'' (مٹیاری) کہا جاتا ہے اور یہ شہر حیدرآباد اور بھٹ شاہ کے درمیان واقع ہے۔ حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ حضرت سید حبیب شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے بیٹے تھے جو حضرت سیدعبدالقدوس شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے پوتے اور حضرت سید جلال شاہ رحمتہ کے پڑپوتے تھے، جن کے والد حضرت سید عبدالکریم شاہ رحمتہ اللہ علیہ بُلڑی والے سندھ کے مشہور اولیااللہ میں سے تھے۔ جن کو شاہ کریم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ان کا سالانہ عرس حیدرآباد سے چالیس میل کے فاصلے پر بُلڑی میں منایاجاتا ہے۔
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے بچپن کا بیان
حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے والد حضرت سید حبیب شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو پہلے اولاد نہیں ہوتا تھا، بعد ازاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خواب میں سید حبیب شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو اولاد کی بشارت دی اورآپ نے اس کی بھی یقین دہانی کروائی کہ ان کے ہاں ولادتِ نرینہ ہوگی جو اپنے زمانے کا غوث ہوگا اور اس کا نام عبدالطیف رکھا جائے۔آپ کے ہاں جب بیٹے کی ولادت ہوئی تو آپ نے اس کا نام عبدالطیف رکھا لیکن وہ بچپن میں ہی وفات پا گیا۔ اس کے بعد ان کے ہاں دوسر ےبیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام عبدالطیف ''عبدالرشید'' رکھا گیا۔ اس کے بعد ان کے ہاں تیسرے بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام حضرت سید شاہ عبدالطیف رکھا گیا۔ جن کا احوال ہم یہاں پر لکھ رہے ہیں۔ .
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کی بُودوباش
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ بہت زیاد متقی اور عبادت گزار تھے اورآپ بہت زیادہ ریاضتیں اور نفس کُشی کیا کرتے تھے۔ آپ کا کھانا بہت سادہ اور کم مقدار میں ہوا کرتا تھا اور آپ فاقہ کشی بھی بہت زیادہ کیاکرتے تھے۔ آپ زندہ رہنے کے بقدر ہی کھایا کرتے اور ا س سے زیادہ کا کبھی بھی مطالبہ نہ کیا۔ آپ کو اضافی جو کچھ ملتا وہ دوسروں میں تقسیم کردیا کرتے تھے۔ آپ کا دل دنیا سے آزاد تھا ، لہٰذا آپ نے دنیا کے کارخانے پر اپنا دعویٰ ترک کردیا تھا۔ یہی سبب ہے کہ حضرت سیدشاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کو ''تارک'' بھی کہتے ہیں اور مذکورہ نام سے آپ مختلف کُتب میں مشہور بھی ہیں۔ حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے بچپن کے بارے میں عجیب وغریب باتیں سُننے میں آتی ہیں۔ آپ کے پہلے استاد میاں نورمحمد بھٹی وائی والے تھے ، جن کے پاس آپ نے ''الف''، ''ب'' کی ابتدا کی تھی۔ استاد نے کہا کہ کہو ''الف'' تو حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا ''الف''، اس کے بعد استاد نے کہا کہ کہو ''ب'' تو حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ نے ''ب'' کہنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ب ہرگز نہیں پڑھیں گے۔ بل آخر استاد حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کو ان کے والد سید شاہ حبیب ؒ کے پاس لے کر آئے اور ان کو پوری بات بتائی۔ سید حبیب شاہؒ خود بھی وقت کے ولی تھے اور اپنے بیٹے کی رمز کو سمجھ گئے ۔ اک دم سے اٹھ کھڑے ہوئے اور شاہ سائیں کے ساتھ بغلیگر ہوکر آکھیں چومیں اور فرمایا کہ ''اے بیٹے! تو حق پر ہے لیکن زمانے میں سبق دینے کا یہی اصول ہے۔'' اکثر لوگوں کی رائے میں حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ نے کسی سے بھی تعلیم حاصل نہیں کی۔ آپ نے جو کچھ بھی حاصل کیا وہ خُدا کی دین تھی۔ بچپن میں آپ کے چلنے پھرنے کا انداز بھی نرالہ ہوتا تھا ، حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی طرح آپ کے بھی راستہ اپنے ہی ہوتے تھے۔ آپ کو فارسی اور عربی زبانوں پر مکمل دسترس حاصل تھی، آپ کے رسالے میں کئی قرآنی آیات، احادیث اور دیگر اقوال ملتے ہیں۔ جس نزاکت سے آپ نے ان تمام چیزوں کو اپنی شاعری میں برتا ہے وہ ایک صاحبِ علم کا ہی کام ہوسکتا ہے۔ آپ بہت زیادتنہائی پسند تھے۔
حضرت سیدشاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے دینی خیالات
آپ پنجگانہ نماز اور روزوں کا بھی احتمام کیا کرتے ، تسبیح پر اذکار کیا کرتے اور قرآن پاک کی تلاوت بھی کیا کرتے۔ آپ نے ایک مسجد بھی تعمیر کروائی جس میں خود آپ نے اپنے ہاتھوں سے کام بھی کیا۔آپ مراقبہ بھی کیا کرتے اور اس میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ آپ نے ہندوفقیروں اورسنیاسیوں کے ساتھ تیرتھ یاترا بھی کی ۔آپ راگ بہت شوق سے سُنا کرتے تھے۔ آپ نے حضرت سید شاہ کریم بُلڑی والے کے روضے کی تعمیر بھی کروائی۔ آپ کا مذہب زورزبردستی والانہیں بلکہ اصلاحی تھا۔ حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ نے اماموں کی زیارت کے لیے کربلا جانے کی تیاری بھی کی۔ آپ سینے پر ہاتھ باندھ کر نماز ادا کیا کرتے تھے ۔ آپ نے خلفہ ثلاثہ کی کبھی غیبت نہیں کی۔ یعنی آپ کا رویہ ایسا تھاکہ آپ سے کسی کی دل آزاری نہیں ہوتی تھی۔ اگر دیکھا جائے تو حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے مذہب کے دو پہلو تھے: ایک ''حقیقی'' ور دوسرا ''مجازی''، لہٰذا آپ ہمیشہ دو حالتوں میں رہا کرتے تھے،جن کو صوفیوں کی اصطلاح میں عروج یعنی چڑھنا اورنزول یعنی اترنا کہا جاتا ہے۔ پہلی حالت میں آپ روحانیت کے راستے پر اپنے خالقِ حقیقی سے اس قدر محو ہوجاتے تھے کے دنیا کے تمام علاقوں سے آپ بہت دور نکل جاتے۔ حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کوخدا تعالیٰ کے دربار سے کچھ ایسا خاص عطا کیا گیا تھا جس کی وجہ سے آپ سے کرامات کا ظہور ہوتا، جو لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنتا۔ یہ امر تو یقینی ہے کہ آپ نے کسی استاد سےتعلیم حاصل نہیں کی تھی، لہٰذا لگتا یوں ہے کہ آپ نے اپنی محنت اور شوق سے علم حاصل کیا ہوگا۔
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے راگ کا شوق
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کوراگ سُننے کا بہت شوق ہوتا تھا۔ آپ کو اپنا بھی خیال نہیں رہتا تھابلکہ وہ خود اس کا ایک حصہ بن جاتے۔ آپ کا جینا بھی راگ تھا اور آپ کا وصال بھی راگ پر ہوا۔ پوری زندگی آپ کا یہی شغل رہا۔ آپ راگ گایا بھی کرتے ۔ راگ بھی دنیاوی اورمجازی عشق کا تھا۔ آپ کو صوفیوں اور فقیروں کے راگ پسند تھے۔ شاہ سائیں کو راگ کا شوق یوں چُرایا کہ میاں نور محمد کےدور میں اور بعض لوگوں کے خیال میں غلام شاہ کلہوڑے کے دور میں دو افراد دہلی سے سندھ آئے۔ ان میں سے ایک کا نام ''اٹل'' اور دوسرے کا نام ''چنچل'' تھا۔ یہ دونوں راگ کے بہت ماہر تھے۔ میاں کی وساطت سے ان کی شاہ سائیں سےشناسائی ہوئی اور وہ شاہ سائیں کے ساتھ اکثر اوقات رہا کرتے اور گاتے بجاتے رہتے تھے۔ شاہ صاحب نے اپنے کلام میں سے منتخب کلام بھی ان کو یاد کروایا۔ آپ گاتے نہیں تھے، لیکن سنتے رہتے اور آپ اس کو سمجھتے بھی تھے اورراگ سُننے میں محو ہوجاتے تھے۔ یہی آپ کا درد تھا اور یہی آپ کی خوشی۔ آپ کو ایک جانب اس میں مَسرت کا احساس ہوتا اور دوسری جانب آنکھوں سے آنسوں بھی رواں رہتے۔
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کا حُلیہ مبارک
حضرت سید شاہ عبدلطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ متناسب لمبے قد کے تھے، نہ تو آپ زیادہ لاغر تھے اور نہ ہی زیادہ فربہ۔ آپ کاسر مبارک پیچھے کی جانب سے زیادہ ابھرا ہو ا نہیں تھا، آپ کی پیشانی بڑی اور فراغ تھی۔ آپ کا چہرہ مبارک لبھانے والا اور ناک قدرے لمبی اور آنکھیں سیاہ تھیں جو آگ کی طرح دہکتی رہتیں۔ آپ کے بال گھنے اور آپ کی داڑھی بھی گھنی اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارک کے مطابق تھی، آپ کا چہرہ گندمی رنگ کا زردی مائل تھا۔ سادہ کھاتے اور سادہ پہنتے تھے۔ آپ اکثر اوقات زرد یا پھر گیروی رنگ کے کپڑے پہنا کرتے۔ سر مبارک پر لمبوتری جمنی ٹوپی اوڑھا کرتے ۔ جس طرح سامی یا صوفی اوڑھا کرتے ہیں ، جس کو تاج کہا جاتا ہے۔ اس کے اوپر بھی آپ کپڑے کے بل دے کر اوڑھا کرتے۔ آپ پیروں میں جوتی تو پہنا کرتے لیکن جب ایک خاص کیفیت میں ہوتے تو ننگے پیر رہا کرتے۔ سادہ سےکھدر یا پھر سلے ہوئے چیتھڑوں پر سویا کرتے۔ ہاتھ میں لاٹھی اٹھایا کرتے تھے اور کھانے پینے کے لیے ہاتھ میں ایک کشکول رکھا کرتے۔



