بڑی اوطاق والے
1. حضرت فقیر تمر رحمتہ اللہ علیہ
2. فقیر میوں کمال پٹ
3. فقیر یعقوب (شہید)
4. فقیر میوں اسماعیل (کھاہوڑی)
5. فقیر عبداللہ
6. فقیر لائق ڈنو
7. فقیر میہار
8. فقیر لائق ڈنو
9. فقیر علی ڈنو (موجودہ)
۔1۔ تمر فقیر
آپ کا تعلق ”بلند شاہ سالارو'' نامی گاؤں سے ہے۔ ''شالارو'' ایک گھاس کی ایک قسم ہے اور وہاں مقیم ''ہالا'' قوم کے لوگوں کو ''سالاریا'' کہا جانے لگا۔ تمر فقیر بھی اسی ''ہالا'' قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ خلیفہ تمر فقیر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد ایک قدیم زمانے سے لے کر حضرت سید حبیب شاہ کے مرید چلے آئے تھے اور ابھی شاہ سائیں زندہ تھے کے وہ حرمین الشریفین چلے گئے۔ جب وہاں سے واپسی ہوئی تو آپ نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمت اللہ علیہ کی قدم بوسی کے لیے پیش ہوئے اور ان سے ان کے والد (شاہ حبیب جو وصال فرما چکے تھے) کی فاتحہ پڑھی۔ ایک چھوٹا لڑکا جوان مریدین کے ساتھ تھا اس کو شاہ سائیں کے حوالے کیا۔ حضرت شاہ صاحب نے بڑے پیار سے لڑکے سے پوچھا کہ : بیٹا تمہارا نام کیا ہے؟ کہا کہ : حاجی علی ۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ بابا یہ نام تو ''مرشدوں کے مرشد'' حضرت علی کرم اللہ وجہ کا ہے۔ لیکن تمہارا نام ہے ''تمر'' کیوں کہ تم عرب میں کھجور (تمر) کے درخت کے نیچے پیدا ہوئے تھے۔ اور اس وقت عرب عورتیں عربی میں اپنی میٹھی آواز میں آلاپ رہی تھیں کہ
'' ثمن البقر لحم الغنم تحت التمر فوق المطر آت الله آت ''
تمر فقیر کے والدین یہ سُن کر حیرت زدہ رہ گئے، کیوں کہ یہ واقعہ بالکل اسی طرح ہوا تھا۔ خلیفہ تمر ابھی نابالغ ہی تھے کہ حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ وصال فرما گئے، تمر فقیر نے پوری زندگی شادی نہیں کی اور مجرد رہے۔ آج تک جو بھی آپ کی گدی پر بیٹھتا ہے وہ شادی نہیں کرتا۔ آپ شاہ سائیں کی زندگی میں راگ کے پیشوا مقرر کئے گئے تھے۔ فرمایا کہ تمر فقیر سے لے کر میوں اسماعیل تک سارے خلیفے راگ کے بھی پیشوا ہوئے ہیں۔ عبداللہ سے لے کر دھاگڑیے فقیر راگ تک آئے۔ یہ اس لیے ہوا کے عبداللہ کَچھ سے آئے تھے۔ ان کی زبان بھی کَچھ والی تھی۔ میوں اسماعیل ہوئے ۔ اس وقت مائی ٹھوڑہی جو بڑے گھرانے کی تھیں وہ بھی اوطاق کو سنبھالا کرتی تھیں اورراگ بھی کرتی تھیں۔ اس کے بعد خلیفہ عبداللہ، اس کے بعد خلیفہ لائق ڈنو اور اس کے بعد خلیفو میہار ہوئے اور اب خلیفو لائق ڈنو ہیں۔پچھلے راگ گانے والوں کے بارے میں یہ دو روایات اہم ہیں تاہم ساتھ ہی یہ مختصر اور محدود بھی ہیں، کیوں کہ ایک تو یہ صرف تمرانی فقیروں کےسلسلے کے بارے میں ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ صرف راگ کے ان پیشواؤں اور فقیروں کے بارے میں ہیں،جو 'جُمڑیا' تھے یعنی جنہوں نے جمعرات کو گایا۔ غالباً گزشتہ صدی (تیرہویں صدی ہجری 18 ویں صدی عیسوی) سے بدھ کی رات بھی راگ ہونے لگا۔ پچھلے ایک لمبے عرصے تک جنہوں نے بدھ کی رات گایا ان کا احوال محفوظ نہیں ہے۔اس صورت میں ، تمر فقیر سے لے کر قریب زمانے تک شاہ سائیں کے راگ گانے والے فقیروں کا تاریخ وار سلسلہ قائم کرنا مشکل ہے۔ ممکن ہے کوئی ایسی تحریر مل جائے جس سے جس سے اس پورے سلسلے کی تصدیق ہوپائے ۔ تاہم فی الحال ہم مختلف زبانی اور چند تحریری بنیادوں پر تمر فقیر سے لے کر موجودہ زمانے تک 'شاہ سائیں کے راگ ' کے پیشواؤں اور ان کے ساتھیوں کے طبقہ وار دؤروں کو اجاگر کرنے کے کوشش کریں گے۔ تاکہ راگ کی دنیا کے اس اہم ادارے کی تاریخ پر مزید تحقیق کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ان طبقہ وار دؤروں میں اکثر کے سنین اور سال تخمینے کے بنیاد پر قائم کئے گئے ہیں۔ اور یہ کہ ہر دؤر میں جو نام معلوم ہوسکے ہیں وہی دیئے گئے ہیں۔ ابتدائی دؤروں میں شاید دوسرے بھی راگ گانے والے رہے ہوں گے لیکن ان کے نام ہم تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔
۔2۔فقیر عارف تھیبو
فقیر عارف تھیبو کا تعلق ٹنڈوالہیار سے تھا، وہ حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے بہت بڑے عقیدت مند تھے ، ان پر نئے آنے والے مریدین کو عبادات کے آداب اور نماز سکھانے ذمہ داری دی گئی تھی۔
۔3۔ فقیر محمد رحیم
فقیر محمد رحیم حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے مُنشی تھے ، لکھنے پڑھنے کی ذمہ داری ان کو سونپی گئی تھی۔
۔4۔ خلیفہ محمد عالم ڈیرو
خلیفہ محمد عالم ڈیرو حضرت سدد شاہ عبدالطف بھٹائی رحمتہ اللہ علہی کے خالہ ذاد بھائی تھے ، درگاہ پر سماع اور ذکر کا انتظام ان کے ذمے تھا۔
۔5۔ فقیر وگند
فقیر وگند عرف وروُ شاہ سائیں کے بہت زیادہ عقیدت مندوں میں سے تھے اور حضرت سدڑ شاہ عبدالطفو بھٹائی رحمتہ اللہ علہع کے بہت قریب تھے اور آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ بڑی اوطاق کے تمام چھوٹے بڑے معاملات آپ کی ذمہ داری تھی۔ فقیر وگند حضرت سدڑ شاہ عبدالطفو بھٹائی رحمتہ اللہ علہع کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کیا کرتے تھے ۔ فقیر وگند کے بارے میں سُر ڈہر میں اشعار بھی کہے گئے ہیں۔
۔6۔فقیر عبدالجمیل اُنڑ
فقیر عبدالجمیل اُنڑ کا کام یہ تھا کہ آپ حضرت سدب شاہ عبدالطفت بھٹائی رحمتہ اللہ علہہ کی عبادت کا سامان سنبھالا کرتے تھے، مثلاً آپ شاہ صاحب کی جائے نماز، تسبیح وغیرہ سنبھال کر رکھا کرتے تھے۔نماز اور ذکر وغیرہ کا بندوبست بھی انہی کے حوالے تھا۔
۔7۔ فقیر بچُو
فقیر بچُو حضرت سدن شاہ عبدالطفب بھٹائی رحمتہ اللہ علہٹ کو نماز سے پہلے وضوع کروانے میں معاونت کیا کرتے تھے۔
۔8۔ سید سائین ڈنو
سید سائین ڈنو حضرت سدی شاہ عبدالطفب بھٹائی رحمتہ اللہ علہ کے بہت بڑےعقیدت مند تھے، آپ کے ذمے حضرت سدت شاہ عبدالطفج بھٹائی رحمتہ اللہ علہب کا بستر سنبھالنا تھا۔
۔9۔ فقیر عمر سہتو
فقیر عمر سہتو حضرت سدی شاہ عبدالطفب بھٹائی رحمتہ اللہ علہ کے بہت بڑے عقیدمند تھے اور آپ کا خاندان بھی شاہ سائیں سے عقیدت رکھتا تھا۔ عمر فقیر نے حضرت سد شاہ عبدالطفت بھٹائی رحمتہ اللہ علہف کو پالا بھی تھا اور زندگی کے آخری ایام تک آپ شاہ سائیں کے ساتھ رہے تھے۔
10. فقیر قاسم
فقیر قاسم پیشے کے لحاظ سے نائی تھے اور حضرت سدع شاہ عبدالطفڑ بھٹائی رحمتہ اللہ علہ کے بال بنانے کی ذمہ داری آپ کی تھی۔
11. فقیر احمد سموں
فقیر احمد سموں شاہ سائیں کی چنگل نامی گھوڑی کو سنبھالا کرتے تھے۔
۔12۔فقیر رہموں
فقیر رہموں شاہ سائیں کے بہت بڑے عقیدت مند تھے اور آپ کے کھانے پینے کا انتظام سنبھالا کرتے تھے۔
۔13۔ فقیر عنایت وسان
فقیر عنایت وسان شاہ سائیں کے بہت بڑے عقیدت مند تھے اور آپ کے ذمے شاہ صاحب کے اونٹ کی سواری (سوار کروانا ، نیچے اتارنا) کی ذمہ داری تھی۔
۔14۔ فقیرو وہیوں
فقیرو وہیوں شاہ سائیں کے چھوٹے کتوں کو سنبھالا کرتے تھے۔ شاہ صاحب نے ان کتوں کے نام ''موتی'' اور ''کھنیو'' رکھے ہوئے تھے۔
۔15۔ فقیر محمد صالح
فقیر محمد صالح کا تعلق ڈاسوڑی سے تھا۔ آپ عارف فقیر کے بیٹے تھے، فقیر محمد صالح فارسی زبان پر عبور رکھتے تھے مثنوی رومی پڑھ کر سنانا آپ کے ذمہ ہوا کرتا تھا، یہی سبب ہے کہ آپ کو شاہ سائیں کا خلیفہ محمد صالح کہا جاتا تھا۔
۔16۔ فقیر سومر لاڑک
اس کے علاوہ شاہ سائیں کے دیگر فقیروں کے نام مندجہ ذیل ہیں۔
• فقیر عبدالواسع سالار
• فقیر سکھر ڈیرو
• فقیر اسماعیل سموں
• فقیر سید نہال شاہ
• فقیر اسماعیل ڈیرو
• فقیر اجن ڈیرو
• فقیر کمال
• فقیر نور محمد ابڑو
یہ تمام احباب شاہ سائیں کی خدمت میں رہا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ مائی صلحاں تنیو اور مائی بُوا وساں حویلی کے اندر کام کاج کیا کرتی تھیں۔



