حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کا دنبورہ
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کا رسالہ طریقت، راگ اور روحانیت سے بھرا ہوا ہے،یہی سبب ہے کہ دنیا بھر کی شاعری کی کتب میں اس کو ایک منفرد حیثیت اور مقام حاصل ہے۔ حضرت سد شاہ عبدالطفت بھٹائی رحمتہ اللہ علہ کے اشعار کو پڑھنے سے سماع کی احدیت کے ذکر کو کرنے سے انسان کو قیاو (روحانی) سکون حاصل ہوتا ہے، اسی طرح حضرت سد شاہ عبدالطف بھٹائی رحمتہ اللہ علہا کا راگ سننے سے قلب روحانیت سے بھر جاتا ہے۔ انسان اپنے دل کے دکھ درد اور وساوس بھلا کر اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔
حضرت سدں شاہ عبدالطفک بھٹائی رحمتہ اللہ علہت کے راگ کا تعلق تو سندھی زبان سے ہے ، تاہم اس میں جو موسیقی کا شمار ایک بین الاقوامی زبان میں کیا جاتا ہے۔ حضرت سدر شاہ عبدالطف بھٹائی رحمتہ اللہ علہا کا دنبورہ توحید کی پانچ تنتوں سے جڑا ہوا ہے، ہر تنت سے نکلنے والی ''تُو تُو'' کی آواز اللہ کی توحید بیان کرتی ہے۔ یہ آواز صرف سننے والوں کی کانوں تک ہی نہیں پہنچتی بلکہ اس توحیدی تنت کی رسائی دل اور روح تک ہوتی ہے۔ اس سے سننے اور بجانے والے پر ایک کیفت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ اپنا آپ کھو دیتے ہیں۔
حضرت سدح شاہ عبدالطفی بھٹائی رحمتہ اللہ علہم کے دنبورے کا تعلق روح اور دل سے ہے، یعنی جس طرح اللہ کا ذکر دل سے کیا جاتا ہے۔ اسی رمز سے یہ راگ بھی گایا جاتا ہے۔ لگ بھگ گزشتہ تین سو برسوں سے حضرت سدج شاہ عبدالطفت بھٹائی رحمتہ اللہ علہا کا راگ بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔ تین صدیاں گزرنے کے باوجود بھی راگ بند نہیں ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حضرت سد۔ شاہ عبدالطفع بھٹائی رحمتہ اللہ علہے کا راگ سُننے والوں میں روز بہ روز اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ راگ الاپنے والوں کا دائرہ بھی وسعت اختیار ۔ حضرت سدر شاہ عبدالطفر بھٹائی رحمتہ اللہ علہ کے راگ اور دنبورے کا تعلق اللہ پاک کی توحید سے ہے۔ دنبورے کی تنتوں کا آواز اللہ کی توحید کی ''تُو تُو'' کی نشاندہی کرتا ہے۔ حضرت سدا شاہ عبدالطفر بھٹائی رحمتہ اللہ علہ کا راگ بھی دوسری موسیقی کی طرح ایک مخصوص طریقہ کار سے الاپا جاتا ہے۔ حضرت سدی شاہ عبدالطفا بھٹائی رحمتہ اللہ علہد کے دنبورے اور راگ کا تعلق دنیاوی اور نفسانی موسیقی سے ہرگز نہیں ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ محرم الحرام کی نویں اور دسویں تاریخوں پر بھی شاہ سائیں کی درگاہ پر دنبورے کی آواز سے توحیدی راگ الاپا جاتا ہے۔ حضرت سدن شاہ عبدالطفر بھٹائی رحمتہ اللہ علہا یہ نے دنبورہ ''موتی'' اور ''گوپال'' نامی کاریگر سے تیار کروایا تھا۔ حضرت سدی شاہ عبدالطفن بھٹائی رحمتہ اللہ علہا کے دنبورے میں تُو تُو کی آواز انسان کا رشتہ اس کے مالک حقیقی (اللہ تعالیٰ ) سے جوڑتی ہے۔

یہ دنبورے کے بالائی حصے کو پکڑتی ہیں۔ کھونٹیاں لکڑی سے بنائی جاتی ہیں اور ان کابالائی حصہ کھجور کے درخت کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اور اس بالائی حصے سے نیچے بیچ میں تنتوں کو پکڑنے کے لیے سوراخ ہوتا ہے جو تنت کو پکڑنے کے کام آتا ہے۔ اور زیریں حصہ گول ہوتا ہے جو سنگ میں کئے گئے سوراخوں میں مضبوط کی گئی ہوتی ہیں۔ دنبورے کو بنانے یعنی سُروں کو ملانے کے لیے ان کھونٹیوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ کھونٹیوں کی تعداد بھی پانچ ہوتی ہے جو پانچوں تنتوں کو پکڑتی ہیں۔
سنگ دنبورے میں بالائی جانب ہوتا ہے ۔ سنگ میں کھونٹیاں، جھلیں یعنی تنتوں میں سُر ملانے کے لیے عاج کے ٹکڑے لگے ہوئے ہوتے ہیں ۔جُھوڑ موتیوں کا بھی سنگ میں باندھا جاتا ہے۔ یہ سنگ دنبورہ بجانے والے کو شانے کے ساتھ یعنی بازو پر رکھنے کے کا حکم کرتا ہے۔ یہ سنگ دیار کی لکڑی کا ہوتا ہے۔
گُلو ایک لکڑی کا ٹکڑا ہوتا ہے جو سرس یا شیشم کی لکڑی سے تیار کیا جاتا ہے۔ گُلو کا بالائی حصہ سنگ کو جوڑ کر نیچے طنبے سے ملاتا ہے۔ گُلو کا بالائی حصّہ سنگ کو اور زیریں حصّہ طنبے کو ملاتا ہے۔ بظاہر اس کی موجودگی نظروں سے اوجھل رہتی ہے ، تاہم دنبورہ تیار کرتے وقت کاریگر کو اس کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے کیوں کہ ساخت میں آنے والے فرق سے آواز پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔
طنبہ لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ لکڑی کے ان ٹکڑوں کو 'تکھڑو' کہا جاتا ہے۔ تکھڑوں کو گول صورت میں ایک دوسرے سے ملانے سے طنبہ تیار ہوتا ہے۔
تھاری لکڑی کی ایک بڑی طشتری ہوتی ہے جو تکھڑوں کے گول طنبے کے اوپر لگائی جاتی ہے۔ تھاری کی بالائی جانب (گھوڑی) یعنی تنتوں کی مشترکہ جھل آواز کے لیے لگائی گئی ہوتی ہے۔
لکڑی کی جھل جس کے اوپر سے دنبورے کی پانچوں تنتیں گزرتی ہیں۔ لکڑے کے اس ٹکڑے کو گھوڑی یا جھل کہا جاتا ہے۔ اس کے بالائی حصّے میں تنت کے لیے باریک سوراخ ہوتے ہیں۔ ایک ترتیب کے ساتھ تنتیں ان میں سے گزرتی ہیں اس کے بعد پُستنگ میں طنبے کی تنتوں سے جوڑ کر مضبوط کیا جاتا ہے۔
پُستنگ کی جگہ طنبے کے نیچے ہوتی ہے۔ پُستنگ سفید عاج کا ہوتا ہے۔ اس کے بالائی ابھرے ہوئے حصّے میں پانچ (5) سوراخ ہوتے ہیں جن سوراخوں میں تنتوں کو زریں حصّے میں مضبوط کیا جاتا ہے۔
جُھوڑ دو تکونوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ جس میں نیچے ، بیچ میں اور اوپر موتیوں کی مالائیں لگی ہوئی ہوتی ہیں ، اس کو دنبورے کے سنگ میں کھونٹیوں کی نیچے باندھا جاتا ہے۔ اس کو دنبورے میں خوبصورتی کے لیے لگایا جاتا ہے۔
دنبورے کے لیے چھلو کو پتلی تاروں سے تیار کیا جاتا ہے۔ تنتوں کو بجانے کے لیے چھلو کی مڑی ہوئے تار کو سیدھے ہاتھ کی شاہد انگشت پر چڑھایا جاتا ہے۔چھلو کا نچلہ حصّہ ہاتھ کی انگلی پر مضبوطی سے چڑھا ہوا ہوتا ہے ۔ چھلے کے بغیر دنبورہ نہیں بجایا جاسکتا۔

