راگ
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے راگ گامختصر تعارف
سُر کا مطلب سوز والی آواز ہے۔ یعنی سُریلی آواز کو سُر کہا جاتا ہے ، ایسی آواز جس سے سوز نکلے، خوبصورت ترتیب اور تنظیم والی آواز یعنی سُرگم سات حصوں میں لانا (س ر گ م پ دھ ن ) ہر ایک کو سُر کہا جاتا ہے۔
پہلے سُر (کھرج، گھور) کو سُر کہا جاتا ہے۔ سُر کا دوسرا مطلب ٹھاٹھ (Mode) کی مثال ہے۔ راگ کے سُر اور بات سُر (موضوع) ان دونوں کے سنگم کو سُر کہاجاتا ہے۔
سُر موضوعاتی موسیقی کے (Thematic Music) کے برابر ہوتے ہیں۔
سُروں کا تعلق کو موضوع کے میلاپ سے ہے۔ جس کے ساتھ سُر اور موضوع ملے ہوئے ہوتے ہیں۔
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کا دنبورہ بھی انہی موضوعاتی سُروں کے لیے گایا جاتا ہے۔ ان موضوعات کی ابتدا سومروں کے دور سے ہوئی۔
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں چار اقسام کی وائیاں پائی جاتی ہیں۔
1. چھیڑ کی وائی:
دنبورے کی تاروں کو چھیڑنا ، تاروں کو بجانا یہ وائی دنبورے کی حد بندی سے آزاد ہوتی ہے۔ اس وائی کو سُر میں گایا جاتا ہے ، لیکن اس کا انداز انسانی احساسات اور جذبات کو لبھاتا اور بھاتا ہے۔ راگ گانے والا پیشوا چھیڑ کی وائی کے الفاظ کہتا ہے دوسرے راگ گانے والے (ساتھی) ان الفاظ کو دہراتے ہیں۔
مندرجہ ذیل چار سُروں میں چھیڑ کی وائیاں نہیں ہیں باقی تمام سُروں میں چھیڑ کی وائیاں ہوتی ہیں۔
*سامونڈی *حسینی *کھاہوڑی *آبڑی
2. دوتالی وائی:
اس وائی کی تال ڈیڑھوی سےتیز ہوتی ۔ زبان۔ گھور۔ ٹیپ پر ضرب پڑتی ہے۔
وائیوں میں آوازوں کے سُروں کے لیے طریقہ دو اقسام کا ہوتا ہے۔
ایک کو گرامر کھرج کہا جاتا ہے۔دوسرے کو پُکار جس کا آواز بلند سپتک یعنی ٹیپ سے ملتا ہے۔ یہ آواز پتلا ہوتا ہے۔ اس انداز میں گائی گئی وائی کو دوتالی وائی کہتے ہیں۔
3. ڈیڑھوی وائی:
اس وائی کی تال میں تین تنتوں پر ضرب پڑتی ہے،ڈیڑھوی وائی کا انداز بھی دوتالی وائی کی طرح ہی ہوتا ہے۔ وائی کےالفاظ تنتوں پر پڑنے والی ضربوں کے لحاظ سے آلاپے جاتےہیں۔ ڈیڑھوی وائی کا گرامر دوتالی وائی سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ زبان۔ خالی ۔ ٹیپ۔ گھور پر ضربیں پڑتی ہیں۔
4. ذکر کی وائی:
اس وائی کو صرف پیشوا ہی گاتا ہے ،راگ گانے والا فقیر (ساتھی) صرف اللہ ہو کرتے ہیں۔ یہ ذکر کی وائیاں درگاہ پر راگ کے علاوہ گائی جاتی ہیں۔ جیساکہ مسافری میں فجر کی نماز سے پہلے پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد لطیفی ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس وائی کو ذکر کی وائی کہا جاتا ہے۔ اس وائی کو دنبورے کے علاوہ بھی گایا جاسکتا ہے۔
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے راگ کی ابتدا
راگ کی ابتدا میں راگ گانے والے سب سے پہلے حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے دنبورے کو ترتیب میں لا کر سُر ملاتے ہیں۔ بڑی اوطاق پر مقرر کردہ وقت پر فقیر جمع ہوتے ہیں تاکہ وہ دنبورے کو ملا پائیں ۔ حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے ساز ملانے کے عمل کا بھی ایک مخصوص نام ہے ، اس کو ''کڑی'' کہاجاتا ہے۔
اس کے بعد پیڑھیوں والے فقیر پیڑھے بناتے ہیں۔بیٹھنے کے لیے رلیوں کو ایک مخصوص ترتیب سے رکھا جاتا ہے، جس کو پیڑھا کہتے ہیں۔ پیڑھے بنانے کے لیے رلیوں کا ہی استعمال ہوتا ہے۔ پیڑھیوں والے فقیروں کی بھی خاص حاضری ہوتی ہے۔ پیڑھیوں والے فقیر رلیاں لے کر درگاہ کی جانب روانہ ہوجاتے ہیں، تاکہ راگ گانے والے فقیروں سے پہلے ہی وہ ان کی نشت کا انتظام کرلیں۔ راگ گانے والے فقیر درگاہ پر پہنچ کر سب سے پہلے وضوع کرتے ہیں اور پھر حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے روضے کے سامنے دروازے پر بچھی ہوئی پیڑھیوں پر نصف دائرے کی صورت میں براجمان ہوجاتے ہیں۔
اس کے بعد مقرر کردہ فقیر حضرت سید شاہ عبدلطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے دنبورے کی تنت (زبان تنت) شروع کرتا ہے۔ تنت یعنی جو سُر آلاپا جاتا ہے اس کو ساز کی یعنی دنبورے کی تنت زبان پر بجاتا جاتا ہے۔ اس میں سے ''تو،تو'' کی آواز نکلتی ہے۔ اس تنت میں بھی سُر کو بجایا جاتا ہے۔ فقیروں کی ٹولی میں دوسے زیادہ فقیر راگ گاتے ہیں۔ مگر تنت صرف ایک فقیر بجاتا ہے۔ تنت کی تین چار تسبیحات ہوتی ہیں۔
تنت مکمل کرنے کےبعد وہی فقیر ''جھَڑ '' بجاتا ہے۔ جھَڑ کی تنت بھی ''تنت'' کی طرح ہی ہوتی ہے۔ لیکن اس تنت کو تمام راگ گانے والے فقیر ایک ساتھ بجاتے ہیں۔ اس جھَڑ کی تنت میں سُر کا آواز آتا ہے۔ حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ کے راگوں میں سے رات کو گائے جانے والا ابتدائی راگ سُر کلیان ہے۔
روایت کے مطابق: حضرت شاہ عبدالطفا بھٹائی رحمتہ اللہ علہل کے کے راگ میں (تنت اور جھَڑ تنت ) کی ابتدا فقیر یعقوب شہید نے کی تھی۔
جھَڑ کی چار تسبیحات ہوتی ہیں۔ اس کے بعد پیشوا فقیر ضرب لگاتا ہے۔
ضرب : او ہو میاں اللہ
اس کے بعد فقیر سُر کلیان کی کوئی بھی داستان شروع کرتے ہیں ، پہلا بیت ضرب والا راگی فقیر پڑھتا ہے ، سُر کلیان کے بیت کو سُر لطیفی میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کے بعد پڑھے ہوئے بیت کے آخری مصرے کو گنگنا کر گرام میں کہتا ہے۔
راگ میں آوازکی دو اقسام کے انداز ہوتے ہیں۔ ''گرام'' ایک بھاری آواز ہے جس کو راگ گانے کی زبان میں (کھرج) ''گا'' کہا جاتا ہے۔ دوسرا آواز ''پتلا'' ہوتاہے اس ہلکے آواز کو ''پتلا'' کہا جاتا ہے۔
روایت کے مطابق: پتلے آواز کی ابتدا فقیر ابراہیم خاصخیلی کے دور میں ہوئی۔
حضرت سید شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمتہ للہ علیہ کے راگ کے سُر مندرجہ ذیل ترتیب سے آلاپے جاتے ہیں۔



